جمعیت اہل حدیث کی دعوت

جمعیت اہل حدیث کے عقیدہ اور اس کی تشریح کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اہل حدیث کی دعوت توحید رب العالمین کی دعوت ہے۔ اس لیے کہ یہ اسی توحید کی دعوت دیتے ہیں جس کے لیے تمام انبیاء کرام علیم کی بعثت ہوئی اور تمام صحف سماویہ کا نزول ہوا۔اہل حدیث کی دعوت اتباع سنت کی دعوت ہے۔ اس لیے کہ زندگی کے تمام معاملات میں اور بالخصوص عبادات میں حتی الامکان سنت مطہرہ کی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔

اہل حدیث کی دعوت ایک سلفی دعوت ہے۔ اس لیے کہ یہ اسلام کی اس پاک و صاف سلف صالحین نے امت کے سامنے پیش کی صاف اور سادہ تعلیم کی طرف دعوت دیتے ہیں جوسلف صالحین نے امت کے سامنے پیش کی۔اور جو ہر قسم کی بدعات اور رسوم سے پاک اور منزہ تھی۔ اہل حدیث کی دعوت ایک حقیقی تصوف کی دعوت ہے۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک تزکیہ نفس، طہارت قلب اور حق سبحانہ و تعالیٰ کی محبت تمام معتقدات اور اعمال صالحہ کی بنیاد ہے۔

اہل حدیث کی دعوت ایک سیاسی دعوت ہے۔ اس لیے کہ وہ حکومت سے اسلامی معاشرہ کی اصلاح، دینی تعلیم کے اجراء و استحکام اور اسلامی نظام حکومت کے قیام کا مطالبہ اور اس کے لیے کوشش اور جدو جہد کرتے ہیں اور بیرون ملک اور دوسرے اسلامی ممالک کی مسلمانوں کے ساتھ اخوت اسلامی کے رابطہ کو مستحکم بنانے کے لیے ساعی اور کوشاں ہیں۔

جمعیت اہل حدیث پاکستان کا اجتماعی نصب العین وطن عزیز میں نفاذ اسلام ہے۔ یہی مشن لے کر صحابہ کرام بت خانہ مدینہ سے نکلے اور براعظم ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک میں ہر قسم کے ظالمانہ غیر اسلامی نظاموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور بابرکت اسلامی قوانین نافذ کرتے ہوئے دعوت اسلام دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی نظام کے فیوض. کات کو دیکھتے ہوئے ملکوں کو ملک دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور آج تک مسلمان ہیں۔
وطن عزیز پاکستان تو آزاد ہی اس لیے ہوا تھا کہ یہاں اسلامی نظام کا نفاذ کیا جائے گا۔ لہذا یہ ہمارا فرض بھی ہیاور جن لوگوں نے مملکت خداداد پاکستان کے حصول کے لیے ماریں کھا ئیں۔ لاکھوں کی تعداد میں عورتوں، بوڑھوں بچوں اور نوجوانوں کو خاک اور خون میں تڑپایا گیا، عفت مآب ماؤں، بہنوں اور اسلامی بیتیوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا، اپنےآبائی وطن، زمینیں، جائدادیں اور مال مویشی ہندوستان میں چھوڑ کر بے یارو مددگار جو مسلمان پاکستان ہجرت کر کے آئے،ان کا ہمارے اوپر قرض بھی ہے کہ ہم اپنا نصب العین بنائیں کہ اس مقصد کے حصول کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔