امتِ مسلمہ پاکستان میں اہلِ حدیث کا واحد توانا دفاعی قائد

ڈاکٹر علامہ ہشام الہی ظہیر

پاکستان میں جب بھی دینی شعائر، مساجد، مدارس یا علماءِ کرام پر کوئی آنچ آئی، جب بھی باطل قوتوں نے پروپیگنڈے، جھوٹے مقدمات اور زبردستیوں کے ذریعے دین کے قلعوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی—تو اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک ایسی آواز گونجی جس نے حق و صداقت کا پرچم بلند رکھا۔ یہ آواز تھی ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر کی، جو آج امتِ مسلمہ بالخصوص اہلِ حدیث پاکستان کے لیے ایک مضبوط حصار، ایک زندہ دیوار اور ایک بے خوف قیادت کی علامت بن چکی ہے۔

جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی باقاعدہ بحالی سے بہت پہلے، علامہ صاحب نے مدارس و مساجد دفاع وِنگ کو عملی طور پر متحرک کر دیا تھا۔ یہ کوئی کاغذی شعبہ نہ تھا، بلکہ ایسا چلتا پھرتا، جاگتا اور لڑتا ہوا محاذ تھا جس کے ساتھ وکلاء کرام کی ایک مضبوط اور باصلاحیت جماعت مستقل طور پر کھڑی تھی۔ جہاں کسی مسجد پر قبضے کی کوشش ہوئی، جہاں کسی مدرسے کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا، جہاں کسی عالمِ دین کو جھوٹے پرچوں میں الجھایا گیا—وہیں علامہ ہشام الٰہی ظہیر دیوار بن کر کھڑے نظر آئے۔

جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی بحالی کے بعد یہ دائرہ مزید وسیع ہوا۔ ملک بھر سے علماء کرام، ائمہ مساجد اور دینی ذمہ داران روزانہ، ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر اپنے مسائل لے کر علامہ صاحب کے پاس پہنچنے لگے۔ یہ مسائل صرف فائلوں میں نہیں دبے رہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک ایک کر کے حل ہوئے۔ کہیں برسوں سے بند مساجد کے تالے کھلے، کہیں جمعہ کی نمازیں دوبارہ آباد ہوئیں، کہیں مظلوم علماء کو انصاف ملا، اور کہیں ظالم ہاتھوں کو قانون کے ذریعے روکا گیا۔

علامہ ہشام الٰہی ظہیر کی قیادت کا کمال یہ ہے کہ جب وہ حق کی آواز بلند کرتے ہیں تو انتظامیہ کے ایوانوں میں بھی ہلچل مچ جاتی ہے۔ ان کی للکار میں دلیل ہے، ان کے مؤقف میں قانون ہے، اور ان کے عمل میں خلوص اور للٰہیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر محاذ پر حق و سچ کے راستے میں کامیابی عطا فرمائی۔

اہلِ حدیث کی قوت اور وحدت کے اظہار کے لیے حقوقِ اہلِ حدیث مارچ کا انعقاد بھی اسی دردمند اور بیدار قیادت کا روشن باب ہے۔ یہ مارچ محض ایک اجتماع نہ تھا، بلکہ پورے پاکستان میں اہلِ حدیث کی اجتماعی طاقت، شعور اور وقار کا اعلان تھا—جس نے ایک مرتبہ پھر اہلِ حدیث کی دھاک بٹھا دی۔

آج اگر پاکستان میں اہلِ حدیث کے عقائد، مساجد، مدارس اور علماء کے دفاع کی بات کی جائے تو بلا مبالغہ ایک ہی نام زبان پر آتا ہے—ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر۔ وہ صرف ایک لیڈر نہیں، بلکہ ایک تحریک، ایک حوصلہ، اور ایک امید کا نام ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردِ حق کو صحت، استقامت اور مزید توفیق عطا فرمائے، اور ان کے ذریعے دینِ حق، مساجد و مدارس اور اہلِ حدیث پاکستان کو ہمیشہ سرخرو رکھے۔ آمین۔

— عبدالحنان طور
ڈائریکٹر، عدل ٹی وی