از ابوبکر قدوسی
یہ منظر مرکز قرآن و سنت میں سحر و افطار کے وقت روزانہ نظر آتا ہے ۔۔ قریب ڈیڑھ سے دو ہزار افراد روازنہ ادھر سحر و افطار کی سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں ۔ ان مہمانوں کی مہمانی ایسے ہی کی جاتی ہے جیسے کسی گھر آئے مہمان کی ۔۔۔۔
مرکز قرآن و سنہ بلاشبہ جذبے کا حقیقت کی دنیا میں آتا ہوا مظہر ہے۔ آج سے چند برس قبل ایک کنال زمین پر ایک ہال کمرے میں مسجد سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ الحمدللہ نو کنال کا ہو چکا ہے اس دوران اس میں کتنے ہی شعبے قائم کیے گئے جو کامیابی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ بلاشبہ اس تمام تر محنت کا ثمرہ برادر عزیز ہشام الٰہی ظہیر اور ان کے قدم قدم ساتھ کھڑے معاونین کے نام ہے کہ جن میں آپ سب بھی شامل ہیں۔
اس میں قائم مسجد سے اُٹھنے والی حق و صداقت کی صدا اب محض اس کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ جدید ذرائع ابلاغ کے عمدہ استعمال کی بدولت چار دانگ عالم میں سنی جاتی ہے۔ وہ عام عوام ہوں یا فیصلہ ساز اشرافیہ الحمدللہ اسی منبر سے اُٹھنے والی حریت فکر کی آواز کو اب نظر انداز نہیں کرسکتے جس کی مثال متعدد کیسز اور واقعات میں انہی خطوط پر فیصلے کرنا شامل ہے جس کو یہاں سے بیان کیا گیا
بلاشبہ یہ شعبہ اس ادارے کے ماتھے کا جھومر ہے۔ جس میں بچوں کو نہایت عمدہ طریقے سے حفظ کروایا جاتا ہے، اور ان کی عزت نفس کو مجروح کیے بنا کسی قسم کی پٹائی سے محفوظ رکھتے ہوئے صرف حفظ نہیں کرایا جاتا بلکہ ان کی تربیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے،ہر پندرہ بچوں پر ایک استاد متعین ہے اور سارے بچے مقامی ہیں کوئی ہاسٹل نہیں ہے پندرہ سے زائد اساتذہ ہیں اور اس کو روایتی خیراتی انداز میں چلانے کی بجائے اس منفرد انداز میں شروع کیا گیا ہے اور متمول افراد سے مناسب فیس بھی لی جاتی ہے۔ اور مستحق طلباء کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے
کیا آپ یقین کریں گے کہ تقریباً بارہ سے پندرہ سو کے قریب افراد یہاں روزانہ تین وقت کھانا کھاتے ہیں۔ اس کثیر تعداد کے لیے ادارے سے ملحق آٹھ مرلے پر محیط ایک مکمل کچن بنایا گیا ہے، اور حافظ ہشام الٰہی ظہیر اور انکے دوست اس تمام انتظام کو اپنے ذمے لیے ہوئے ہیں اور بہت محنت و جانفشانی سے اس کو سنبھالتے ہیں۔
یہ اس ادارے کا سب سے اہم منصوبہ ہے۔ جو حافظ ہشام الٰہی ظہیر کے ذہن رسا کا نتیجہ ہے۔ صرف تین برس کے اندر یہ سکول اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے۔ جس کے پرنسپل راقب نعیم نہایت محنت سے اس سکول کو جدید انداز میں چلا رہے ہیں۔ اس سکول کی خوبی صرف تعلیم نہیں تربیت بھی ہے، اور ہاں جب یہ سکول شروع کیا گیا تو ہشام الٰہی ظہیر صاحب نے سب سے پہلے اپنے بچوں کو شہر کے مہنگے ترین سکولوں سے اُٹھا کر یہاں داخل کیا۔ تو کیا سبب تھا کہ یہ سکول ترقی نہ کرتا۔ اس اسکول کے شعبہ جات پر نوائے وقت کی کالم نگار عنبر شاھد نے ایک کالم لکھا جس میں اسکا مکمل تعارف موجود ہے
اس ادارے میں رفاہ عامہ کے بہت سے ضمنی شعبہ جات بھی کامیابی سے جاری ہیں۔
مقامی آبادی کے لیے تقریباً بیس لاکھ روپے لاگت کا انتہائی عمدہ اور معیاری پینے کے پانی کا فلٹر پلانٹ نصب کیا گیا ہے۔
عیدالاضحی کے دنوں میں بڑے پیمانے پر قربانی کی جاتی ہے اور گوشت غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
ہر جمعے کو سینکڑوں نمازیوں کے لیے کھانے کا وسیع انتظام ہوتا ہے۔
مرکز کے اندر ایک چھوٹے ہسپتال کا منصوبہ زیر تعمیر ہے۔
ایک کمرہ غسل میت کے لیے تعمیر کیا گیا ہے جس میں تمام تعمیر عمدہ پتھر سے کی گئی ہے، اور بلا تفریق مسلک تغسیل میت کفن دفن کا فی سبیل اللہ انتظام کیا جاتا ہے
یہ المناک حقیقت ہے کہ جس عورت نے نسلوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے خود اس کی تربیت کا ہمارے ہاں کوئی سامان نہیں ہوتا۔ برادر ہشام الٰہی ظہیر جو ہر وقت کچھ نیا کرنے کا سوچتے رہتے ہیں ، پچھلے برس انہوں نے مرکز کے پہلو میں ایک کنال کا پلاٹ لیا اور اس کو صرف خواتین کے لیے خاص کر دیا ۔ بلاشبہ ایک کنال کی چار منزلوں پر مشتمل عورتوں کی یہ مسجد اور مدرسہ جس میں فہم قرآن و دین کے متعدد کورسز جاری و ساری ہیں شاید لاہور میں عورتوں کے حوالے سے سب سے بڑا ادارہ ہو
اس کمپلیکس میں اس برس تعمیر ہونے والی ایک شاندار عمارت میں ایک بڑے ہال میں میڈیا سنٹر قائم کیا جا چکا ہے جو اگرچہ پہلے بھی فعال تھا لیکن اب اس میں مزید جدت لائی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک وسیع تر لائبریری بھی زیر تعمیر ہے
جناب حافظ ہشام الٰہی ظہیر کا یہ کارنامہ بلاشبہ سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق ہے۔ آپ نے اسی مرکز کے زیر اہتمام نادار اور ریٹائر علماء کرام کے لیے وظائف کا آغاز کیا۔ وہ علماء جنہوں نے اپنی جوانی دین اسلام کی خدمت میں وقف کی ہوتی ہے اور بڑھاپا آتا ہے تو بے یار و مددگار چھوڑ دیے جاتے ہیں ، مشکل کی اس گھڑی میں ان کے کام آنا بلاشبہ ایک سنہری کارنامہ ہے۔ اور یہ کام ماہانہ کی بنیاد پر گزشتہ تین چار برس سے جاری و ساری ہے
یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا کہ جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی۔ ہوتا یہ تھا کہ علماء کے خطبے اور تقاریر سے مرضی کے جملے اور فقرے اُچک کر ان پر جھوٹے مقدمے دائر کر دیے جاتے اور وہ مجبور محض ہو کر تھانے کچہریوں میں خوار ہوتے رہتے اور کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر چند برس پہلے اس مرکز میں ایک اجلاس میں اس کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور کتنے ہی مظلوم علماء مساجد و مدارس کی داد رسی کی گئی واقفان حال جانتے ہیں اس اکیلے شعبے کا کام ایک جماعت کے کام سے بھی زیادہ ہے پاکستان بھر کے دو سو سے زائد مساجد کے کیس یہ ادارہ تن تنہاء لڑ رہا ہے اور اسکی کارکردگی کے بیسیوں واقعات مسجد عثمان سے لیکر مسجد عمر بن خطاب تک آپکے سامنے ہی ہے
جب گھر میں " وی آئی پی " مہمان آتا ہے تو ہم کیسے شان دار طریقے سے اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور پھر کیسے اس کے آگے بچھ بچھ جاتے ہیں ۔۔۔ اس مرکز میں رمضان المبارک ایسا ہی مہمان بن کر آتا ہے ۔ اور اس رمضان المبارک کے توسط سے آنے والے نمازی اور روزہ دار اتنے ہی معتبر ہوتے ہیں کہ جو ان کا مقام ہے ۔۔ حافظ ہشام الہی ظہیر اور ان کے ساتھی ان کے میزبان ہوتے ہیں اور ان مہمانوں کی خدمت میں آنکھیں بچھائے ہر وقت مستعد۔ ۔ پچھلے صحن میں ایک طرف صفیں بچھی ہوتی ہیں اور تراویح و درس کی روحانی ضیافت کے ساتھ ساتھ طعام و خورو نوش کی محفل بھی بپا رہتی ہے ۔۔ایک طرف چائے ، عمدہ جلیبیوں اور بچوں کے لیے چپس بن رہے ہوتے ہیں اور بہترین کھجوریں دستر خوان پر سجی ہوتی ہیں ۔۔۔۔ اور اندر ہال میں روحانیت کی مجلس ہشام الہی ظہیر سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ فجر اور طاق راتوں میں متعدد نامور اور جید علماء تعلیم و تزکیہ کورس کرواتے ہیں نہایت خوش الحان قاری امجد اور دیگر قراء کی تلاوت سے روح کو تروتازگی مل رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ آخری دس دنوں میں یہ مرکز ایک آباد شہر کا منظر پیش کرتا ہے سو سے زائد مرد اور سو سے زائد خواتین یہاں شہر اعتکاف میں آباد ہو جاتے ہیں جنکی خاطر تواضع میں برادر ہشام اور انکی پوری ٹیم مستعد ہو جاتی ہے آخری دس دنوں میں اس مرکز کہ رونقیں عجیب منظر پیش کرتی ہیں پورے ملک کے جید علماء بھی تعلیم و تزکیہ کورس کرواتے ہیں سارا دن مختلف کورسز چلتے ہیں رات کو اللہ کی عبادت ہوتی ہے
اس مرکز یعنی شجر سایہ دار کا ایک نہائت اہم شعبہ فتویٰ کمیٹی کا ہے ۔۔پچھلے کچھ عرصے میں بہت سے پیش آنے والے واقعات و مسائل پر اس فتویٰ کمیٹی نے بروقت قوم و ملت کی رہنمائی کی اور مدت سے موجود ایک خلا پر کیا ۔بلاشبہ یہ اس مرکز کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت کا دروازہ ہے ۔۔۔۔حضرت علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بے حساب ہوں اور مسلسل و لگاتار ہوں کہ جن کی باقیات و صالحات کا سلسلہ ان کی ذریت کی صورت میں ہم پر سایہ فگن ہے فتوی کمیٹی کی تشکیل بھی انہی کا خواب تھا گزشتہ رمضان پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لجنہ علماء للافتاء کے جید علماء کے متفقہ فتاوی جات مطبوعہ حالت میں منظر عام پر بھی آگئے تھے علامہ شہید کے اک اور خواب کی تکمیل بھی مکمل ہوئی
ویسے تو برادر علامہ ہشام الہی ظہیر ہر دین پسند کے سفارشی ہیں تعلیم حاصل کرنی ہو وکیل بننا ہو نوکری چاہیے بے دھڑک فون اٹھا کر متعلقہ شخص سے درخواست کر دیتے ہیں لیکن اب انکے ذہن میں یہ منصوبہ ہے کہ ہر سال ایک سو بچوں کو ہاسٹل اور کھانے کی سہولت دے کر مختلف مقابلے کے امتحانات کی تیاری بھی اسی مرکز میں کروائی جائے جس کے لئے عالی شان کمپلیکس تعمیر کے آخری مراحل میں ہے اسے بھی مکمل کرنا ہے پھر سو افراد کی ذمہ داری اٹھانی ہے
نکاح آسان کی تحریک میں بھی اس مرکز کا حصہ وافر ہے مسجد کا صحن عورتوں کا ھال چھوٹی تقریبات کے لئےہر نمازی کو میسر ہے جس کی وجہ سے وہ مہنگے ہالوں کے خرچوں سے بچ جاتے ہیں خود ہشام صاحب کے خاندان کے متعدد افراد کی شادی کی شادی تقریبات اسی اسلامک سنٹر میں ہوئی ہیں
رمضان المبارک قریب ہے اور مسلمانوں کے ہاں اس ماہ میں صدقات خیرات اور زکات کو دیا جاتا ہے میری آپ احباب سے اپیل ہے ان شا اللہ یہ مینارہ رشد ہدایت اکناف عالم کو روشن کرے گا ، اور اس کے لیے احباب کو آگے بڑھنا چاہیے ۔۔۔۔اس مرتبہ رمضان میں علامہ ہشام الہی ظہیر صاحب چار کنال مزید جگہ اس مرکز میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس سے سولہ سو مزید نمازیوں کی جگہ بن جائے گی ایک جائے نماز یعنی ایک نمازی کی جگہ کے لئے جو رقم درکار ہے وہ ساٹھ ہزار ہے اگر صرف سولہ سو افراد ہمت کریں تو یہ کام بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا
اتنا بڑا ادارہ آپ احباب کے تعاون کے بغیر چلنا نا ممکن ہے آپ اپنی زکات صدقات و عطیات کا ایک وافر حصہ اس ادارے کے لئے مختص کریں یہاں خرچ ہونے والا ایک ایک پیسہ نا صرف محفوظ ہاتھوں میں ہے بلکہ آپکو یاد دلاتا چلوں اس مرکز کی ساری انتظامیہ بشمول علامہ ہشام الہی ظہیر کے خاندان کے اپنی جیب سے بھی انفاق فی سبیل اللہ کرنے والی ہے لیکن اتنے بڑے پراجیکٹس آپ سب کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتے
رمضان المبارک کے لیے تعاون کی اپیل
یاد دھانی برائے صدقات زکات عطیات سحری و افطاری فدیہ و فطرانہ
مسجد کی جگہ میں حصہ ڈالئے فی مصلی ساٹھ ہزار روپے کے حساب سے(مطلب دو بائی چار= آٹھ اسکوائر فٹ جگہ کی قیمت)
رابطہ کے نمبر:
قاری امجد: 03064544952
سجاد اسلم: 03024705802
واٹس ایپ صرف: 03104563818
© All Copyright 2026 by جمیعت اہلِ حدیث پاکستان