دفاعِ حرمین اور اہلِ حدیث قیادت

پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں بعض موضوعات محض خبروں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ امتِ مسلمہ کے ایمان، شعور اور اجتماعی ذمہ داری سے جڑ جاتے ہیں۔ “باخبر پاکستان” کی حالیہ نشریات میں جس سرزمین کا ذکر ہوا، وہ صرف نقشے پر موجود ایک ملک نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ وہ مقدس خطہ ہے جہاں حرمین شریفین واقع ہیں، جن کی طرف دنیا بھر کے مسلمان دن میں پانچ مرتبہ رخ کرتے ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان کا تعلق محض سفارتی یا سیاسی نہیں، بلکہ عقیدت، ایمان اور نظریاتی وابستگی کا مضبوط رشتہ ہے۔ اسلام کا سورج اسی سرزمین سے طلوع ہوا، ایمان کی روشنی یہیں سے دنیا میں پھیلی، اور مکہ و مدینہ نے قیامت تک کے لیے امت کو ایک مرکز عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب سعودی عرب ایک نازک اور حساس دور سے گزر رہا ہے، اور سعودی عرب و یمن کے درمیان کشیدگی نے صورتِ حال کو پیچیدہ بنایا ہے، تو یہ معاملہ محض علاقائی سیاست نہیں رہتا بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور اور غیرتِ ایمانی کا امتحان بن جاتا ہے۔

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب بھی حرمین شریفین کو کسی بھی نوعیت کا خطرہ لاحق ہوا، یہ مسئلہ سرحدوں یا سیاسی مفادات سے کہیں آگے بڑھ گیا اور براہِ راست عقیدۂ توحید اور ایمان کے تحفظ کا سوال بن گیا۔ ایسے نازک مواقع پر قیادت کا تعین عہدوں یا طاقت سے نہیں، بلکہ جرأتِ اظہار، فکری بصیرت اور عوامی اعتماد سے ہوتا ہے۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دفاعِ حرمین کے ہر دور میں اہلِ حدیث مکتبِ فکر نے دوٹوک، بے خوف اور واضح کردار ادا کیا۔ موجودہ دور میں اگر اہلِ حدیث کی سب سے مؤثر، ہمہ گیر اور مقبول آواز کسی ایک شخصیت کی صورت میں سامنے آتی ہے، تو وہ ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر ہیں۔

ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں اہلِ حدیث مکتبِ فکر کا ایک معتبر اور توانا نام ہیں۔ وہ جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے صدر ہیں اور دفاعِ اسلام، تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ، تحفظِ صحابہؓ، دفاعِ مدارس و مساجد، نیز الحاد اور انکارِ حدیث جیسے فکری و نظریاتی محاذوں پر ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ ان تمام معاملات میں ان کی آواز محض احتجاج نہیں بلکہ دلیل، شعور اور ایمانی بصیرت کی ترجمان ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی کسی حکومت یا پالیسی نے اسلامی تعلیمات، شریعت یا عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے منافی سمت اختیار کرنے کی کوشش کی—خواہ وہ قادیانیت کی سہولت کاری ہو یا کوئی اور غیر اسلامی قانون—تو ان پالیسیوں کے سامنے سب سے مضبوط، واضح اور فیصلہ کن رکاوٹ کے طور پر ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر کی آواز ابھری۔ ان کا اسلوبِ خطابت جوشیلہ ضرور ہے، مگر قرآن و سنت پر مبنی مضبوط دلائل سے مزین ہوتا ہے۔ وہ باطل کو صرف رد نہیں کرتے بلکہ دلیل اور جرأت کے ساتھ بے نقاب بھی کرتے ہیں۔

علامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر ایک عظیم علمی اور دعوتی ورثے کے امین ہیں۔ ان کے والدِ محترم، عالمِ اسلام کے نامور خطیب، مجاہدِ ختمِ نبوت اور بے مثال داعی علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کے دفاع اور اہلِ باطل کے رد کے لیے وقف کر دی۔ متعدد زبانوں پر عبور، عالمی سطح پر خطابات، اور بے خوف دعوت ان کی پہچان تھی۔ ان پر ہونے والا قاتلانہ حملہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے، اور بالآخر انہوں نے سعودی عرب میں جامِ شہادت نوش کیا اور جنت البقیع میں سیدنا عثمان بن عفانؓ کے قدموں میں سپردِ خاک ہوئے—جو ایک عظیم سعادت ہے۔

ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر اسی عظیم مشن کے فکری وارث ہیں۔ وہ مدینہ یونیورسٹی کے فاضل ہیں، جس طرح ان کے والد محترم اس جامعہ کے ابتدائی اور ممتاز طلبہ میں شامل تھے۔ دفاعِ حرمین شریفین کے لیے جس خلوص، استقامت اور جرأت کا مظاہرہ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ نے کیا، آج وہی مشن ان کا بیٹا پوری ثابت قدمی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ حکومتی پالیسی ہو یا ریاستی مؤقف—جہاں اصلاح اور تنقید ضروری ہو، وہ دلیل اور حکمت کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مگر جب معاملہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے دفاع کا آتا ہے، تو ان کی قیادت، جرأت اور فکری گہرائی کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ ان کا دفاع ایسا مدلل اور پُراثر ہوتا ہے کہ نہ صرف داخلی مخالفین بلکہ عالمی سطح پر موجود قوتیں بھی جواب دینے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔

آنے والے وقت میں “باخبر پاکستان” کے پلیٹ فارم سے ایک جامع ڈاکومنٹری بھی پیش کی جائے گی، جس میں یہ دکھایا جائے گا کہ ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کن کن مواقع پر، کن کن محاذوں پر، اور کس حکمت و جرأت کے ساتھ دفاعِ حرمین شریفین میں اپنی آواز بلند کی۔ تاکہ تاریخ یہ گواہی دے سکے کہ ہر دور میں حق کے ساتھ کھڑی ہونے والی قیادت موجود رہی ہے۔

تحریر:
عبدالحنان طور
ڈائریکٹر، عدل ٹی وی